ابو بکر محمد بن طاہر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل نے ’’رحمت‘‘ کے ساتھ مزین کیا، آپ ﷺ سراپا رحمت ہیں اور آپ ﷺ کے تمام خصائل و صفات مخلوق پر رحمت فرمانا ہے، جس نے بھی آپ ﷺ کی رحمت (عامہ) سے حصہ پایا وہی( در حقیقت) دین و دنیا میں ہر برائی سے نجات یافتہ اور دونوں جہان میں با مراد ہے، کیا تم اللہ عزوجل کے اس فرمان کو نہیں دیکھتے کہ وہ فرماتا ہے: ﴿وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ﴾ (الانبیاء: ۱۰۷)اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے لہذا حضور ﷺ کی حیات ظاہری بھی رحمت ہے اور حیات باطنی (وفات) بھی رحمت ، جیسا کہ حضور ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں:<br /> حَیَاتِیْ خَيْرٌ لَّكُمْ وَ مَوْتِىْ خَيْرٌ لَّكُمْ (بزار ج اص ۳۹۷)<br /> میری یہ زندگی بھی تمھارے لیے بہتر ہے اور یہاں سے کوچ کر جانا ( وصال) بھی تمھارے لیے بہتر ہے۔نیز حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:<br /> إِذَا أَرَادَ اللهُ رَحْمَةً بِأُمَّةٍ قبَضَ نَبِيَّهَا قبْلَهَا فَجَعَلَهٗ لَهَافَرَطاً وَّسَلَفًا <br /> جب الله عزوجل کسی امت پر رحمت فرمانے کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے اس امت کے نبی کی روح قبض کرتا ہے اس کے بعد ان پر حال و مستقبل میں مہربانی فرماتا ہے۔<br /> (صحیح مسلم ج۴ ص ۱۷۹۲)<br /><br />کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ<br />مختصر نام: الشفا شریف <br />مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ<br />مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ<br /><br />#Shorts<br />#ShanEMustafa<br />#AlShifa <br />#RahmatulLilAlameen<br />#IslamicShorts<br />#Islamic<br />#ThinkGoodGreen
